خواتین کا دینی معلم
₨450
اکابرین کی مستند کتب سے دلنشیں انداز میں مرتب شدہ عام فہم مجموعہ
مسلمان ماؤں بہنوں کی دینی تعلیم و تربیت کا عوامی نصاب
اللہ کی شان
خواتین کا دینی معلم لکھنے کا پس منظر یہ تھا کہ جب مساجد میں فہم دین کے لیئے تسہیل بہشتی زیور تیار ہوئی تو ذہن میں یہ خیال آیا کہ حکیم الامت حضرت تھانوی قدس سرہ نے تو بہشتی زیور اصل میں خواتین کے لیے لکھی تھی۔ اس کا مخاطب بھی خواتین تھیں اور اس میں مسائل بھی خواتین کو در پیش گھر یلوزندگی اور ان کی مخصوص نفسیات کو سامنے رکھ کر ان کی ضروریات کے مطابق مرتب کئے گئے تھے۔ تسہیل بہشتی زیور میں مؤنث کے صیغے مذکر میں بدل دیے گئے اور وہ خواتین کے حلقے سے نکل کر مردوں کے درس کے لیے نئے لبادے میں سامنے آئی ہے۔ اگر چہ خواتین بھی اس سے استفادہ کر سکتی ہیں لیکن جو بات کسی طبقے کو خصوصیت سے سامنے رکھ کر کہی جاتی ہے اور اس کی نفسیات ، ذہنی سطح اور اسے درپیش مخصوص ماحول کے حوالے سے بیان کی جاتی ہے، اس کی تاثیر ہی اور ہوتی ہے۔ لہذا یہ فکر دامن گیر ہوئی کہ خواتین کے لئے الگ سے کام کرنے کی ضرورت بہر حال موجود ہے۔
اس کے لیے یہ تدبیر کی گئی کہ بہشتی زیور کے مسائل کو سوال و جواب کی شکل میں مرتب کر لیا گیا۔سنتوں، آداب و دعاؤں کے لیے دوسری کتابوں مثلاً : “علیکم بسنتی اور مسنون دعائیں” سے بھی استفادہ کیا گیا اور یوں اس مجموعے کا پہلا ایڈیشن چھپ کر قارئین تک پہنچ گیا۔ اللہ کی شان کہ پہلا ایڈیشن ہاتھوں ہاتھ نکلا اور دوسرا ایڈیشن جلد ہی چھاپنا پڑ گیا۔ اکثر حضرات نے اسے خواتین کے دینی کورس کے طور پر اپنے اپنے مدارس اور حلقوں میں شامل درس کیا۔ بعض احباب نے اس کے کئی کئی سو نسخے خرید کر درس قرآن میں آنے والی خواتین میں فی سبیل اللہ تقسیم کیے۔ اس طرح کی اطلاعات ملک بھر سے آئیں اور ساتھ میں کئی تجاویز بھی۔ ان میں سے دو تجویز میں اہم تھیں: ایک یہ کہ پہلے باب میں سورتوں کا محض ترجمہ کافی نہیں، تجوید کے کچھ اصول بھی بیان ہونے چاہیں۔ دوسری یہ کہ ” تربیت اولاد” کا موضوع اس میں ضرور ہونا چاہیے کہ خواتین کی دینی تعلیم و تربیت کا حصہ ہے کہ ان کو تربیت اولاد کے شرعی اصولوں اور طریق کار سے آگاہ کیا جائے۔ ان دونوں مشوروں پر عمل کرتے ہوئے قواعد تجوید کا آسان خلاصہ تیار کیا گیا۔ نیز استادِ محترم حضرت مولانا ڈاکٹر حبیب اللہ مختار شہید رحمہ اللہ تعالیٰ کی کتاب”اسلام اور تربیتِ اولاد” میں سے ان ابواب کا انتخاب کیا گیا جو خواتین کی تربیتی ذمہ داریوں سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کی زبان آسان کر کے انہیں بھی اس کتاب کا حصہ بنالیا گیا ہے۔ حضرت الاستاد کی اس مفید کتاب کی مکمل تلخیص و تسہیل بھی ان شاء اللہ الگ سے شائع کی جائے گی۔ زیرِنظر ایڈیشن میں شروع میں دی گئی سورتوں اور کتاب کے بیچ میں آنے والی آیات کا ترجمہ حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم کے آسان ترجمہ قرآن سے لیا گیا ہے۔
قارئین سے خصوصی دعاؤں کی درخواست ہے۔ کتاب کی قبولیت کے لیے بھی اور اسکی نافعیت کے لیے بھی۔ اکر مکم اللہ تعالیٰ۔
شاہ منصور
جمادی الاولی : ۳۰ھ
| Book Format |
Hard Copy |
|---|---|
| Book Author |
مفتی ابو لبابہ شاہ منصور |















Reviews
Clear filtersThere are no reviews yet.